Sign in Register  
 
 
 
 
 
 
 
Urdu Articles

مسکراہٹوں میں پنہاں درد۔۔۔

 

پاک افغان سرحدی علاقے باجوڑ ایجنسی کے 26نوجوانوں کو گزشتہ برس عیدا لفطر کے دوسرے روز شدت پسندوں نے اس وقت اغوا کر لیا تھا جب وہ وہاں پکنک منانے گئے تھے۔یہ سارے نوجوان بخریت اپنے گھروں کو اب واپس ہو چکے ہیں۔ ان میں کچھ افراد پہلے اپنی مدد آپ کے تحت بھاگ کر آئے تھے جبکہ باقیوں کو بعدازاں طالبان نے خود ہی رہا کر دیا جبکہ بعض ذرائع نے یہ بھی کہا ہے کہ نوجوانوں کے کچھ والدین نے طالبان کو اپنے بیٹوں کی رہائی کے لئے رقم بھی دی ہے۔ تمام نوجوانوں کی رہائی سے قبل چند افراد اور ان کے والدین سے انٹرویو کیا گیا ۔جو یہاں پیش کیا جارہا ہے

جان سردار پہلے خیر آباد باجوڑ ایجنسی میں رہتا تھا مگر اب وہ باجوڑ ایجنسی کے سرحدی گاﺅں ترخو میں رہ رہا ہے۔وہ ایک مزدور ہے اور اپنے مالک تاج ملک کے کھیتوں اور جانوروں کی دیکھ بال کرتا ہے اس کے بدلے میں اس کے مالک نے صرف اسے رہنے کے لئے ایک کچا گھر دیا ہوا ہے اور دو وقت کا کھانا بھی اسے اس کا مالک دیتا ہے اس کے علاوہ جان سردار کو کچھ نہیں ملتا۔ جان سردار کے پانچ بیٹے اور دو بیٹیاں ہیں ۔ بیٹیوں کی شادی ہو چکی ہے ۔ اس وقت جان سردار اپنے دو بیٹوں ظہور خان اور امان اللہ سے محروم ہے۔ اس کا بڑا بیٹا ظہور خان 2008میں اغوا کر لیا گیا تھا جبکہ دوسرا بیٹا اس سال عید الفطر کے دوسرے روز سرحد پار سیر کرنے والے ان 26نوجوانوں میں شامل تھا جن کو طالبان نے قید کر لیا تھا۔ امان اللہ تاحال طالبان کی قید میں ہے۔جان سردار نے پی پی این سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ میں نے اپنے بڑے بیٹے کی تلاش میں کوئی علاقہ نہیں چھوڑا لیکن اس کی موجودگی کا کہیں پتہ نہیں چل سکا۔ اس نے بتایا کہ وہ تمام ہسپتالوںاور جیلوں میں جا چکا ہے مگربے سود۔اس کے علاوہ وہ پشاور میں قائم آئی ڈی پیز کے کیمپ جلوزئی بھی کئی مرتبہ گیا ہے مگر اس کا بیٹا اسے نہیں مل سکا۔ اس نے بتایا کہ وہ اس حوالے سے ڈی جی آئی ایس آئی جنرل احمد شجاع پاشا سے بھی ملاقات کر چکا ہے جس میں اسے بتایا گیا کہ اس کا بیٹا زندہ ہے اور اسے تب تک نہیں چھوڑا جا سکتا جب تک طالبان سے امن مذاکرات مکمل نہیں ہو جاتے۔جان سردار کا کہنا ہے وہ انتہائی کرب کی زندگی گزار رہا ہے اس پر اپنے بچوں کیساتھ ساتھ ظہور خان کی بیوی اور تین بچوں کا بھی بوجھ ہے۔ وہ اس کی بیوی کی دوسری شادی بھی نہیں کر سکتا جب تک اسے بیٹے کے متعلق صیح معلومات نہ مل جائے۔ جان سردار کے دکھ میں اس وقت اور اضافہ ہو گیا جب اسے پتہ چلا کہ اس کے دوسرے بیٹے امان اللہ کو طالبان نے قید کر لیا ہے۔امان اللہ ان 26نوجوانوں میں شامل تھا جو عید الفطر کے دوسرے روز سیر کے لئے سرحد پر گئے تھے اور وہاں انہیں طالبان نے اغوا کر لیاتھا۔ جان سردار کا کہنا ہے کہ نہ تو اس کی دشمنی طالبان سے ہے اور نہ فوج سے۔ ہم محب وطن بھی ہیں اور مسلمان بھی ۔ مجھے سمجھ نہیں آتی کہ میرے بچوں کو کیوں اغوا کیا گیا ہمارا گناہ تو ہمیں بتا دیا جائے۔ جب جان سردار سے پو چھا گیا کہ مقامی افراد ،پولیٹیکل ایجنٹ یا کسی حکومتی اہلکار نے اس حوالے سے اس کی کوئی مدد کی ہو تو اس کا جواب تھا کہ میں تو ان لوگوں سے مایوس ہو چکا ہوں میری واحد امید اللہ تعالیٰ سے وابستہ ہے۔ جان سردار نے طالبان سے بھی اپیل کی ایک مسلمان دوسر ے مسلمان کو بھلا کیسے تکلیف دے سکتا ہے اس لئے میرے بیٹے کو رہا کر دیا جائے۔اس نے کہا دو جوان بیٹوں کے اغوا کا دکھ میرے علاوہ کوئی محسوس نہیں کر سکتا۔

 

روئے زمین کا بیٹا عبدالحمید بھی طالبان کی قید میں ہے۔ روئے زمین اور اس کا خاندان 35سال سے یہاں زندگی بسرکر رہے ہیں۔ ان کی کسی کے ساتھ کوئی عداوت نہیں ۔روئے زمین کے 4بیٹے ہیں ۔وہ گھر کا واحد کفیل ہے اور اب گاﺅں کی چوکیداری کرتا ہے ۔ چوکیداری کا کام اسے مجبورا کرنا پڑ رہا ہے۔روئے زمین نے بتایا کہ اس کے بیٹے کی بازیابی کے لئے حکومتی سطح پر کوئی خاص کو ششیں نہیں ہوئیں ۔مقامی رکن قومی اسمبلی شوکت اللہ نے بیٹے کی رہائی کے لئے یقین دہانی کروائی تھی مگر عملا کچھ نہیں کیا۔پی پی این سے گفتگو کرتے ہوئے روئے زمین نے مزید بتایا کہ طالبان نے ایک مرتبہ مجھ سے میرے بیٹے کی بات کر وائی تھی۔ ہمارا جرگہ بھی طالبان کے پاس گیا تھامگر طالبان نے یہ کہہ کر ہمارے بچوں کو رہا کرنے سے انکار کر دیا تھا کہ ہمارا مسلئہ حکومت کیساتھ ہے ۔ جب تک حکومت ہمارے مطالبات نہیں مان لیتی ہم بچوں کو رہا نہیں کر سکتے ۔روئے زمین نے بتایا کہ ہم اپنے ملک سے محبت کرتے ہیں سب مسائل کی جڑ امریکہ ہے ۔ ہم حکومت اور طالبان دونوں سے اپیل کرتے ہیں کہ ہماری خوشیاں ہمیں لوٹادی جائیں۔

طالبان کی قید سے اب تک 6لوگ بھاگ کر واپس آچکے ہیں ان میں20سالہ اعتبار جان بھی ہے ۔اس نے پی پی این کو بتایا کہ سرحد پار پانی کا ایک چشمہ ہے جب ہم وہاں پہنچے تو طالبان نے ہمیں پکڑ لیا۔ طالبان کی تعداد تین تھی ۔دو ہمارے اوپر پہرہ دیتے رہے جبکہ ایک نیچے گاﺅں چلا گیا۔ کچھ دیر کے بعد وہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ آیا اور ہم سب کو لے کر نیچے گاﺅں لے گیا۔ وہاں پر ہمیں مختلف کمروں میں گروپوں کی شکل میں رکھا گیا۔ ہمیں کبھی بھی اکھٹا نہیں رکھا گیا۔اس نے بتایا کہ ان کا مقامی کمانڈر داداللہ تھا ۔وہاں تقریبا 700سے 800طالبان ہمیشہ موجود رہتے تھے۔ اس نے بتا یا کہ کبھی کبھا ر شام کے وقت ہمیں گھروں سے باہر نکالا جاتا مگر ہم پر سخت پہرہ ہو تاتھا۔طالبان ہمارے ساتھ بات بہت کم کیا کرتے تھے۔طالبان نے ہمارے ساتھ کسی قسم کا تشدد یا بد فعلی نہیں کی ااور نہ ہی ہمارے سامنے کبھی پاکستان کے بارے میں بات کی البتہ امریکہ کو بہت گالیاں دیتے تھے۔اعتبار جان نے بتا یا کہ طالبان کا ایک ہی مطالبہ تھا کہ حکومت جب تک ایجنسی سے مکمل طور پر فوج کو واپس نہیں بلا لیتی اور امریکہ کا ساتھ دینا نہیں چھوڑ دیتی کبھی بھی مذاکرات نہیں ہو سکتے۔اعتبار جان نے بتا یا کہ 6دن کم 4مہینے ہوئے ہیں کہ وہ اپنے گھر پہنچا ہے اس نے بتا یا کہ جب وہ وہاں سے بھاگا تو رات کا ایک بجا تھا اور اس رات طالبان کا پہرہ نہیں تھا۔میرے ساتھ محمد رحمان بھی تھا ۔ہم نے اپنی زندگی کو داﺅ پر لگانے کا فیصلہ کیا اور وہاں سے بھاگ آئے۔ ہم صبح کی اذان تک بارڈر پر بیٹھے رہے اور اذان کے بعد دوبارہ اپنی منزل کی طرف روانہ ہوئے ۔ہم صبح 8بجے اپنے گھر پہنچ گئے تھے۔ ہمارے گھر والوں کی خوشی کی کوئی انتہا نہ تھی۔اعتبار جان نے بتا یا کہ میں نے یہ رسک اس لئے لیا کہ کہیں طالبان ہمیں افغان حکومت کے حوالے نہ کر دیں اور اگر وہ ایسا کر دیتے تو زندگی کا بچاﺅ ہمارے لئے انتہائی مشکل ہو جاتا اور افغان حکومت ہمیں کبھی بھی اپنے کسی خاص مقصد کے لئے استعمال کر سکتی تھی ۔اس نے بتایاکہ میں تقریبا 114دن طالبان کی قید میں رہا ہوں اس دوران ان کی افغان سیکورٹی فورسز جنہیں ٹائیگر کہا جاتا ہے سے ایک بہت بڑی جھڑپ ہوئی تھی جس میں 4طالبان مارے گئے تھے جبکہ افغان سیکورٹی فورسز کا بھی کافی نقصان ہوا تھا۔اس نے بتا یا کہ میری خوشی اس میں ہے کہ میرے دوست بھی رہا ہو کر اپنے گھروں کو واپس آجائیں لیکن لگتا ایسے ہے کہ وہ اپنے مطالبات منوائے بغیر ان کو رہا نہیں کرئیں گے ۔ اعتبار جان نے بتا یا کہ طالبان میں سے وہ جنت گُل کا جانتا تھا کیونکہ وہ باجوڑ میں طالبان کا کمانڈر رہ چکا ہے اور اب وہاں پر داداللہ کا نائب ہے۔

طالبان کی قید سے فرار ہونے والوں میں 14سالہ ابراہیم بھی ہے۔ ابراہیم اپنے والدین کا اکلوتا بیٹا ہے۔ابراہیم کے خاندان کے 4نوجوان ابھی تک طالبان کی قید میں ہی ہیں۔ان میں فیض اللہ ،لقمان ،سعداللہ اور ضیا اللہ شامل ہیں ۔ سعداللہ اور فیض اللہ جبکہ لقمان اور ضیاللہ آپس میں سگے بھائی ہیں ۔ ابراہیم کے مطابق طالبان کی قید میں موجود نوجوانوںمیں آٹھ آٹھ سال کے بچے بھی شامل ہیں۔ ابراہیم نے پی پی این کو بتا یا کہ جس وقت انہیں گرفتار کیا گیا تھا میں نے اسی وقت یہاں سے بھاگنے کی منصوبہ بندی کر لی تھی بس موقع کے انتظا ر میں تھا۔پھر ایک رات میں نے اپنے کسی دوسرے دوست کو بتائے بغیر بھاگنے کا فیصلہ کیا اگر میں اپنے کسی دوسرے دوست کو بتاتا تو ممکن تھا کہ وہ میرا ساتھ نہ دیتا اورمیں ایک نئی مصیبت میں گرفتار ہو جاتا اور کبھی بھی اپنے والدین کو نہ دیکھ پاتا۔اس نے بتا یا کہ رات کے تین بجے تھے جب وہ وہاں سے بھاگا۔ اسے راستوں کا کوئی علم نہ تھا۔ راستے میں اسے ایک کُتے نے بھی کا ٹا جس کی وجہ سے وہ بہت مشکل میں رہا ۔ ابراہیم اگلے روز مغرب کے وقت اپنے گھر پہنچا اس وقت وہ بہت نڈھال ہو چکا تھا۔ کتے کے کاٹنے کی وجہ سے اسے سخت تکلیف تھی جس کے علاج کے لئے اسے اسلام آباد جانا پڑا اور اس کے علاج پر 20000روپے اخراجات آئے ہیں۔ تاحال اس کی کسی نے کوئی مدد نہیں کی۔ابراہیم نے بتا یا کہ اسے طالبان کے مطالبات کا کچھ علم نہیں۔اس نے کہا کہ طالبان کا رویہ تو درست تھا مگر ہمیں اپنی زندگی کی کوئی گارنٹی نہ تھی۔اس نے بتا یا کہ طالبان کبھی کبھی افغانستان میں تعینات امریکی فوج کے حوالے سے گفتگو کرتے تھے مگر پاکستانی فوج کے حوالے سے کبھی کوئی بات ہمارے سامنے نہیں ہوئی وہ ہمیں کھانے میں زیادہ تر چاول اور سردی سے بچاﺅ کے لئے گرم چادریں دیتے تھے۔جب ابراہیم سے پوچھا گیا کہ وہ ان گزرے ہوئے دنوں کو کس طرح یاد کرتا ہے تو اس نے بتایا کہ یہ میرے زندگی کے خطرناک ترین ایام تھے ۔ایسے لگتا تھا کہ زندگی کسی بھی لمحے ختم ہو سکتی ہے۔میری دعا ہے کہ میرے خاندان کے لوگوں سمیت سب دوست رہا ہو جائیں۔

مقامی لوگوں کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ ہم نے جرگہ کے ذریعے نوجوانوں کی بازیابی کے لئے کوششیں کی ہیں مگر طالبان کے سخت موقف کی وجہ سے وہ رائیگاں گئیں ہیں۔ مقامی فرد عبدالمجید نے بتا یا کہ طالبان کی سرگرمیوں کی کوئی بھی حمایت نہیں کرتا مگر یہ ایک حقیقت ہے کہ طالبان کی سرگرمیاں عمل کا رد عمل ہیں۔ عبدالمجید نے بتایا کہ باجوڑ میں امن و امان کی صورت حال 6اگست 2008کو بڑے فوجی آپریشن کے شروع ہونے کے بعد زیادہ خراب ہوئی ۔

اس حوالے سے جب ہم نے باجوڑ سے ایم ایم اے کے سابق رکن قومی اسمبلی ہا رون الرشید سے رابطہ کیا تو انہوں نے کہا کہ ہم نے بچوں کی رہائی کے لئے اپنے طور پر کوشش ضرور کی ہے مگر یہ ذمہ داری حکومت کی ہے اور حکومت نے اس حوالے سے نااہلی کا ثبوت دیا ہے۔ انہوں نے پی پی این سے گفتگو کرتے ہو ئے کہا کہ قبائل اول روز سے ہی محب وطن رہے ہیں۔گزشتہ فوجی حکومت نے اپنے ہی لوگوں پر ظلم ڈھائے ہیں جبکہ موجودہ جمہوری حکومت نے ان مظالم کی انتہا کر دی ہے۔انہوں نے کہا کہ فوج اور طالبان کی جنگ میں ننانوے فیصد نقصان بے گناہ عوام کا ہوا ہے۔باجوڑ میں 5000لوگ مارے جاچکے ہیں 40000زخمی ہوئے ہیں جن میں اکثریت بچوں ،خواتین اور معمر افراد کی ہے۔انہوں نے بتا یا کہ ہماری ایک نسل کو تعلیم سے محروم کر دیا گیا۔زراعت اور لائیو سٹاک کی صنعت بھی بری طرح تباہ ہوئی ہے۔امریکہ کی جنگ میں ہماری اپنی فوج نے اپنے بے گناہ شہریوں کو ہلاک کیا ہے۔پورے فاٹا کو کھنڈرات میں تبدیل کر دیا گیاہے۔انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ جس طرح ایبٹ آباد آپریشن پر کمیشن بنایا گیا ہے اسی طرح فاٹا میں ہونے والے فوجی آپریشن کی تحقیقات کے لئے بھی کمیشن بنایا جائے۔

باجوڑ ایجنسی سے پیپلز پارٹی کے رکن قومی اسمبلی سید اخوانزادہ چٹان نے پی پی این سے مغوی بچوں کی بازیابی کے حوالے سے گفتگو کرتے ہو ئے بتایا کہ وہ ہمارے اپنے بچے ہیں۔ہم نے ان کی رہائی کے لئے ہر سطح پر کوششیں کی ہیں اور ہم پر امید ہیں کہ جو بچے ابھی تک واپس نہیں آسکے جلد واپس آجائیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ ہمیں اس بات کی بہرحال تسلی ہے کہ بچے تاحال خیریت سے ہیں ۔ان کا کہنا تھا کہ پہلے بھی کافی لوگ اغوا ہو چکے ہیں جن کا تاحال کچھ علم نہیں۔ان کا کہنا تھا کہ اغوا کاروں نے جو مطالبات رکھے ہیں ان کو پورا کرنا ہمارے بس میں نہیں لیکن ہم پر امید ہیں کہ مغوی بچوں کو جلد از جلد بازیاب کروا لیا جائے گا۔ اخوانزادہ چٹان نے مزید بتایا کہ پاک افغان سرحدی علاقوں میں حالات کی خرابی میں طالبان سے زیادہ ” را،موساد اور خاد“ ملوث ہیں۔جس کے ثبوت حکومت کے پاس موجود ہیں۔فاٹا میں امن و امان کی صورت حال کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ اب حالات کافی بہتر ہیں ترقیاتی کام پہلے کی نسبت زیادہ ہو ئے ہیں اور سب سے بڑھ کر یہ کہ اب وہاں پر حکومت کی مکمل عملداری قائم ہو چکی ہے۔میر ی آنکھ نے جو دیکھا اس کے مطابق۔۔۔۔۔بچے حصول تعلیم کے کئے کوشاں تو ہیں مگر اپنی منزل سے بے خبر،یہاں کھیل کے میدان تو آباد ہیں مگر خوف کے سایوں میں،چہروں پر کبھی کبھی مسکراہٹ آجاتی ہے لیکن اس میں بھی درد پنہاں ہوتا ہے۔لوگوں میں خوف کی کیفیت ہے ۔ بازار سہ پہر کو ہی بند ہوجاتے ہیں۔ کاروبار زندگی مفلوج ہے ۔ لوگ غربت کی چکی میں پس رہے ہیں۔اس سب کے باوجود قبائل محب وطن پاکستانی ہیں۔

Source: http://www.pakistanpulsenews.com/index.php?option=com_content&view=article&id=733:2012-01-14-09-15-18&catid=29:special&Itemid=439

 

 

 


 
 
Try different languages here:
Upcoming Events
Media Training for Report...
29.09.2011 - 01.10.2012 | 11.00
View All

 

How to find right pharmacy to buy Tadalafil Online infodrugsrx.com How to take Tadalafil with right Dosage?